Thursday, August 4, 2016

پاکستانی اولمپک دستہ اور کھیلوں کا زوال

کل سے اولمپک گیمز شروع ہونے جا رہی ہے۔ فیسبک دوستوں نے پاکستانی دستے سے اظہار یکجہتی کے طور پر اپنی پروفائل تصویر کو بھی بدلنا شروع کردیا ہے جو کہ اچھی بات ہے۔ زندہ قوموں کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ وہ ہر فورم پر اپنے ملک کی حمایت کرتے ہیں۔
لیکن بطور پاکستانی ہمارے لیے باعث شرم بات یہ ہے کہ اس اولمپک گیمز میں پاکستانی دستہ صرف پانچ کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ اور ان پانچ کھلاڑیوں کو بھی وائیلڈ کارڈ اینٹری دی گئی ہے کیونکہ ہاکی ٹیم سمیت پاکستان کا کوئی بھی کھلاڑی ایونٹس کے لیے کوالیفائی نہیں کرسکا۔
صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی اتنی آبادی ہونے کے باوجود کم ترین کھلاڑیوں کا دستہ ہے۔ ایسی صورت حال میں پاکستان اولمپک کمیٹی کے ارکان تو شاید اس کیفیت میں مست الست ہیں کہ
بدنام ناں ہوں گے تو کیا نام نا ہوگا؟؟؟

ہاکی باکسنگ اور ویٹ لفٹنگ سمیت کئی کھیلوں میں میڈلز حاصل کرنے والے پاکستان کا یہ حال ہے کہ کہ آج اولمپک گیمز کے دستے میں کھلاڑیوں سے زیادہ آفیشلز شامل ہیں۔
پاکستان میں کھیلوں کے اس زوال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پوری قوم سمیت حکام کی توجہ صرف کرکٹ کے کھیل پر مرکوز ہے۔ دیگر کھیلوں اور کھلاڑیوں کے ساتھ سوتیلوں کا سا سلوک کیا جاتا ہے۔

یہ کہنا بھی بجا نا ہو گا کہ بانوے کا کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے کے بعد باقی کھیلوں کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ انیس سو بانوے سے پہلے پاکستان ہاکی اور سکواش کی دنیا میں راج کرتا تھا۔ جبکہ باکسنگ۔ ویٹ لفٹنگ سمیت دیگر کھیلوں میں بھی پاکستانی کھلاڑی اپنا لوہا منوا رہے تھے۔ لیکن بانوے کے بعد ان تمام کھیلوں زوال شروع ہو گیا۔ اور آج یہ نوبت آن پہنچی ہے کہ تین بار کی اولمپک گولڈ میڈلسٹ پاکستان ہاکی ٹیم اس بار کوالی فائی کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ جبکہ ہاکی کے ذمہ داران کی جانب سے یہ مؤقف اپنایا جا رہا ہے کہ ہم خود ہی اولمپک کھیلنا نہیں چاہتے کیونکہ نئے کھلاڑیوں کو تجربے کے لیے وقت چاہیے۔ بھائی یہ  کون سا تجربہ ہے جو آپ کھیلے بغیر حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

رہی بات پاکستان اولمپک کمیٹی کی۔ ۔ ۔ تو اس کی بات ہی چھوڑیے۔ سالانہ کروڑوں روپے مراعات کی مد میں لینے والی پاکستان اولمپک کمیٹی اس قابل بھی نہیں کہ چند کھلاڑی تیار کر سکے جو پاکستان کو کم ترین دستے کی بدنامی سے بچا سکیں۔
پاکستان اولمپک کمیٹی کے موجودہ صدر جناب عارف صاحب گزشتہ گیارہ سال سے اپنے عہدے سے چمٹے ہوئے ہیں۔ اور ان کی بھرپور توجہ صرف اپنی سیٹ بچانے پر مرکوز ہے۔ پاکستان کے ٹیلنٹ کو کس طرح سامنے لانا ہے اس سے انہیں کوئی غرض نہیں۔ انہیں چاہیے کہ اب بھی وہ ریو ڈی جنیرو کے ساحلوں کی سیر کرنے کی بجائے ملک میں آ کر اپنی کارگزاریوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔

محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے میری دعا ہے کہ یہ پانچ رکنی پاکستانی دستہ وہ کام کر دکھائے جو پچاس رکنی سے بھی نہیں ہو سکا۔
تاہم معذرت کے ساتھ اگر اب اولمپک کمیٹی کی ازسرنو تدوین نا کی گئی اور پاکستان میں موجود ٹیلنٹ کو سامنے لانے کی سنجیدہ کوششیں نا کی گئیں تو خاکم بدہن آئندہ اولمپک گیمز میں پاکستانی کھلاڑیوں کی بجائے صرف جناب عارف صاحب ہی شرکت کریں گے۔ وہ بھی دنیا کو یہ بتانے کے لیے کہ ہم وہ ملک ہیں جو اٹھارہ کروڑ آبادی اور بے پناہ ٹیلنٹ رکھنے کے باوجود بین الاقوامی میعار کا ایک بھی کھلاڑی پیش نہیں کر سکے۔

گر تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔ ۔ ۔ ۔

Sunday, November 29, 2015

تعلیم کا گرتا میعار اور پرائیویٹ کالجز کی بھرمار

وطن عزیز میں تعلیم کا شعبہ بھی ایک کاروبار کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ جگہ جگہ کھلنے والے پرائیویٹ سکول اور کالج ایزی لوڈ کی دکانوں کا سا منظر پیش کرتے ہیں۔ میں نے ایک کالج کے سامنے بورڈ لگا دیکھا جس پہ لکھا ہوا تھا
"یہاں Bsc کے تمام پیکج کروائے جاتے ہیں"

 گویا Bsc نا ہوئی جم خانہ کلب کی رکنیت ہو گئی جہاں مختلف پیکج پر ایکسرسائز کروائی جاتی ہے۔ ویسے ایسی جگہوں پر تعلیم بھی ایکسرسائیز کی طرح ہی دی جاتی ہے۔ جہاں سے طالبعلم ۔ پیشہ ورانہ مہارت دینے کی بجائے "سٹار وارز" کی فلموں کی طرح روبوٹ بنا کر نکالے جاتے ہیں۔ جنہیں صرف ناک کی سیدھ میں چلنا آتا ہے۔ نا دائیں دیکھ سکتے نا بائیں۔
مخلوط تعلیم اور گلیمر کی چکاچوند کے شکار ایسے کالجز میں طلبہ کا زیادہ وقت نین مٹکے میں گزرتا ہے۔ اور اساتذہ بجائے خود نت نئی جوڑیوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ لیکچرز کی خانہ پری کی جاتی ہے اور پھر پڑھائی کے نام پر اسائنمنٹس کا انبار دے دیا جاتا ہے تا کہ اصل پڑھائی اور سوال کی بجائےطلباء ان کو بنانے اور ادھر ادھر سے چوری کرنے میں ہی مگن رہیں۔ کہ نا ڈھولا ہوسی تے نا رولا ہوسی.

ستم ظریفی یہ ہے کہ اس طرح کے کالجز کا الحاق تو ایک آدھ گم نام یونیورسٹی سے ہوتا ہے۔ لیکن اشتہار میں ہر طرح کے کورسز لکھ دیے جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک اشتہار نظر سے گزرا جس میں لکھا ہوا تھا "وفاقی اردو یونیورسٹی سے الحاق شدہ۔  دیگر کورسز کے ساتھ مکینیکل۔سول آٹو میں ڈپلومہ کرنے کی بھی سہولت۔ نیز یہاں ڈسپنسر اور فارمیسی کے کورس بھی کروائے جاتے ہیں"
خوف خدا۔ ۔ ۔ کالج نا ہو گیا چاچے میدے کی دکان ہو گئی۔ جس نے گھی۔تیل صابن کے ساتھ پٹرول ڈیزل اور دودھ دہی بھی رکھے ہوئے ہیں۔ نیز ختنے کروانے کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
ایسے کالجوں سے فارغ التحصیل طلباء کا حال بیوٹی پارلر کی اس دلہن کی طرح ہوتا ہے جو ویسے تو عام شکل و صورت کی ہوتی ہے لیکن لیپا تھوپی کر کے حور بنا کے نکالا جاتا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ منہ دھوتے ہی وہ حور چڑیل کی شکل میں نکھر کے سامنے آ جاتی ہے۔۔
 اسی طرح یہ طلباء بھی ڈگری حاصل کر کے عملی میدان میں داخل ہوتے ہیں۔ تو ان کے پلے کچھ نہیں ہوتا اور ساری محنت ٹائیں ٹائیں فششش ہو جاتی ہے۔

دور کیوں جائیے میں اس کی ایک تازہ مثال آپ کو اپنے علاقہ سے دیتا ہوں۔ میرے ایک دوست کی زمین ساہیوال بائی پاس پر یونیق سی۔این۔جی کے ساتھ خالی پڑی ہوئی تھی۔ ساہیوال میں ریسورنٹ کا بڑھتا رجحان دیکھ کر انہوں نے بھی "منصب ریسٹورنٹ" نام سے ریستوران کھول لیا۔ لیکن وہ نا چل سکا۔ پھر انہوں نے اس کا نام بدل کے "الخیر ریسٹورنٹ" رکھا۔ ایف۔ایم اور کیبل کے ذریعے خوب تشہیر کی لیکن بات نا بنی۔ پھر انہوں نے سوچا ذرا مختلف نام رکھ کے دیکھتے ہیں سو پھر سے ریستوران کا نام "ہانڈی ریسٹورینٹ" رکھ کے چلانے کی کوشش کی لیکن گاہک تھے کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
کافی سوچ و بچار کے بعد انہوں نے پھر سے اس کا نام بدلا۔ نا صرف نام بدلا اور اسے "بلیو سٹار" رکھا بلکہ عمارت کی پوری شکل ہی بدل دی۔ تمام عمارت پر نیلے رنگ کے شیشوں کا کام کروایا اور لان وغیرہ پر بھی توجہ دی۔ بچوں کے لیے جھولے وغیرہ بھی لگوائے۔ الغرض اپنی تمام جمع پونجی لگا دی۔ لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ ریستوران نے نا چلنا تھا۔ سو نا چلا۔ محترم دوست نے اس جگہ کو ہی منحوس جانتے ہوئے ہمت ہار دی۔

کچھ عرصہ بعد ان کے پاس ایک انویسٹر آئے اور یہ جگہ خریدنے کی خواہش ظاہر کی۔ دوست نے موقع غنیمت سمجھتے ہوئے عمارت سمیت زمین اونے پونے داموں بیچ دی۔ ہم نے جب ان سے پوچھا کہ آپ نے اتنی کم قیمت میں عمارت بیچ دی۔ اتنے کا تو ملبہ بھی نہیں تھا۔ تو فرمانے لگے۔"یہ جگہ منحوس ہے۔ یہاں کوئی کاروبار نہیں ہو سکتا سو بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی"

خیر نئے آنے والے صاحب نے عمارت میں تھوڑی بہت تبدیلیاں کی اور پرائیویٹ کالج کھول لیا۔ لیجیے جناب ابھی اس کالج کو کھلے چند ماہ ہی ہوئے ہیں۔ اور پارکنگ میں موٹر سائیکلوں کی بہار نظر آنے لگی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ موصوف نے کوئی نئی ڈگری ہی ایجاد کی ہے۔ ڈاکٹر آف نیوٹریشن۔ پہلے تو عمریں لگ جاتی تھیں ڈاکٹر کہلوانے کے لیے۔ لیکن موصوف نے ایک ہی سال میں ڈاکٹر بنا کے نکالنے کا دعوی کیا ہے۔
ہم ایک دن ان صاحب سے ملنے گئے اور پوچھا کہ بھائی آپ نے کیا کیا ہے؟ نا دور دور تک آبادی نا ہی کسی اور کاروبار کے نشان منحوس سی جگہ پہ راتوں رات رونق کیسے لگا لی۔ تو ہنس کے فرمانے لگے "ابھی تو ابتدائے عشق ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا"
اور اس کا بات کا اظہار ایک اور بورڈ لگا دیکھ کر ہو گیا ہے۔ جس پر نا جانے کون سی جناتی زبان میں مزید نئی ڈگریوں کی تفصیل لکھی ہے۔ جو اس کالج سے کروائی جائیں گی۔
یہ بھی سنا ہے کہ فزیو ٹریننگ کے لیے بہت مہان قسم کی چھیل چھبیلی ناروں کا بھی بندوبست کیا گیا ہے۔ جن کو دیکھتے ہی لڑکے بالے امنڈ امنڈ کے آ رہے ہیں۔ اور جوش جنوں دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔
یہ تو ایک مثال تھی۔ تعلیم کے شعبہ میں ایسی ترقی آپ کو جابجا نظر آئے گی۔ اور آپ بھی میری طرح اس بات کو مان جائیں گے۔ کہ ملک میں تعلیم ایک نفع بخش کاروبار کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ جس میں میعار تعلیم کم اور کاروبار زیادہ ہے۔