کل سے اولمپک گیمز شروع ہونے جا رہی ہے۔ فیسبک دوستوں نے پاکستانی دستے سے اظہار یکجہتی کے طور پر اپنی پروفائل تصویر کو بھی بدلنا شروع کردیا ہے جو کہ اچھی بات ہے۔ زندہ قوموں کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ وہ ہر فورم پر اپنے ملک کی حمایت کرتے ہیں۔
لیکن بطور پاکستانی ہمارے لیے باعث شرم بات یہ ہے کہ اس اولمپک گیمز میں پاکستانی دستہ صرف پانچ کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ اور ان پانچ کھلاڑیوں کو بھی وائیلڈ کارڈ اینٹری دی گئی ہے کیونکہ ہاکی ٹیم سمیت پاکستان کا کوئی بھی کھلاڑی ایونٹس کے لیے کوالیفائی نہیں کرسکا۔
صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی اتنی آبادی ہونے کے باوجود کم ترین کھلاڑیوں کا دستہ ہے۔ ایسی صورت حال میں پاکستان اولمپک کمیٹی کے ارکان تو شاید اس کیفیت میں مست الست ہیں کہ
بدنام ناں ہوں گے تو کیا نام نا ہوگا؟؟؟
ہاکی باکسنگ اور ویٹ لفٹنگ سمیت کئی کھیلوں میں میڈلز حاصل کرنے والے پاکستان کا یہ حال ہے کہ کہ آج اولمپک گیمز کے دستے میں کھلاڑیوں سے زیادہ آفیشلز شامل ہیں۔
پاکستان میں کھیلوں کے اس زوال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پوری قوم سمیت حکام کی توجہ صرف کرکٹ کے کھیل پر مرکوز ہے۔ دیگر کھیلوں اور کھلاڑیوں کے ساتھ سوتیلوں کا سا سلوک کیا جاتا ہے۔
یہ کہنا بھی بجا نا ہو گا کہ بانوے کا کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے کے بعد باقی کھیلوں کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ انیس سو بانوے سے پہلے پاکستان ہاکی اور سکواش کی دنیا میں راج کرتا تھا۔ جبکہ باکسنگ۔ ویٹ لفٹنگ سمیت دیگر کھیلوں میں بھی پاکستانی کھلاڑی اپنا لوہا منوا رہے تھے۔ لیکن بانوے کے بعد ان تمام کھیلوں زوال شروع ہو گیا۔ اور آج یہ نوبت آن پہنچی ہے کہ تین بار کی اولمپک گولڈ میڈلسٹ پاکستان ہاکی ٹیم اس بار کوالی فائی کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ جبکہ ہاکی کے ذمہ داران کی جانب سے یہ مؤقف اپنایا جا رہا ہے کہ ہم خود ہی اولمپک کھیلنا نہیں چاہتے کیونکہ نئے کھلاڑیوں کو تجربے کے لیے وقت چاہیے۔ بھائی یہ کون سا تجربہ ہے جو آپ کھیلے بغیر حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
رہی بات پاکستان اولمپک کمیٹی کی۔ ۔ ۔ تو اس کی بات ہی چھوڑیے۔ سالانہ کروڑوں روپے مراعات کی مد میں لینے والی پاکستان اولمپک کمیٹی اس قابل بھی نہیں کہ چند کھلاڑی تیار کر سکے جو پاکستان کو کم ترین دستے کی بدنامی سے بچا سکیں۔
پاکستان اولمپک کمیٹی کے موجودہ صدر جناب عارف صاحب گزشتہ گیارہ سال سے اپنے عہدے سے چمٹے ہوئے ہیں۔ اور ان کی بھرپور توجہ صرف اپنی سیٹ بچانے پر مرکوز ہے۔ پاکستان کے ٹیلنٹ کو کس طرح سامنے لانا ہے اس سے انہیں کوئی غرض نہیں۔ انہیں چاہیے کہ اب بھی وہ ریو ڈی جنیرو کے ساحلوں کی سیر کرنے کی بجائے ملک میں آ کر اپنی کارگزاریوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔
محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے میری دعا ہے کہ یہ پانچ رکنی پاکستانی دستہ وہ کام کر دکھائے جو پچاس رکنی سے بھی نہیں ہو سکا۔
تاہم معذرت کے ساتھ اگر اب اولمپک کمیٹی کی ازسرنو تدوین نا کی گئی اور پاکستان میں موجود ٹیلنٹ کو سامنے لانے کی سنجیدہ کوششیں نا کی گئیں تو خاکم بدہن آئندہ اولمپک گیمز میں پاکستانی کھلاڑیوں کی بجائے صرف جناب عارف صاحب ہی شرکت کریں گے۔ وہ بھی دنیا کو یہ بتانے کے لیے کہ ہم وہ ملک ہیں جو اٹھارہ کروڑ آبادی اور بے پناہ ٹیلنٹ رکھنے کے باوجود بین الاقوامی میعار کا ایک بھی کھلاڑی پیش نہیں کر سکے۔
گر تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔ ۔ ۔ ۔