Sunday, November 29, 2015

تعلیم کا گرتا میعار اور پرائیویٹ کالجز کی بھرمار

وطن عزیز میں تعلیم کا شعبہ بھی ایک کاروبار کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ جگہ جگہ کھلنے والے پرائیویٹ سکول اور کالج ایزی لوڈ کی دکانوں کا سا منظر پیش کرتے ہیں۔ میں نے ایک کالج کے سامنے بورڈ لگا دیکھا جس پہ لکھا ہوا تھا
"یہاں Bsc کے تمام پیکج کروائے جاتے ہیں"

 گویا Bsc نا ہوئی جم خانہ کلب کی رکنیت ہو گئی جہاں مختلف پیکج پر ایکسرسائز کروائی جاتی ہے۔ ویسے ایسی جگہوں پر تعلیم بھی ایکسرسائیز کی طرح ہی دی جاتی ہے۔ جہاں سے طالبعلم ۔ پیشہ ورانہ مہارت دینے کی بجائے "سٹار وارز" کی فلموں کی طرح روبوٹ بنا کر نکالے جاتے ہیں۔ جنہیں صرف ناک کی سیدھ میں چلنا آتا ہے۔ نا دائیں دیکھ سکتے نا بائیں۔
مخلوط تعلیم اور گلیمر کی چکاچوند کے شکار ایسے کالجز میں طلبہ کا زیادہ وقت نین مٹکے میں گزرتا ہے۔ اور اساتذہ بجائے خود نت نئی جوڑیوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ لیکچرز کی خانہ پری کی جاتی ہے اور پھر پڑھائی کے نام پر اسائنمنٹس کا انبار دے دیا جاتا ہے تا کہ اصل پڑھائی اور سوال کی بجائےطلباء ان کو بنانے اور ادھر ادھر سے چوری کرنے میں ہی مگن رہیں۔ کہ نا ڈھولا ہوسی تے نا رولا ہوسی.

ستم ظریفی یہ ہے کہ اس طرح کے کالجز کا الحاق تو ایک آدھ گم نام یونیورسٹی سے ہوتا ہے۔ لیکن اشتہار میں ہر طرح کے کورسز لکھ دیے جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک اشتہار نظر سے گزرا جس میں لکھا ہوا تھا "وفاقی اردو یونیورسٹی سے الحاق شدہ۔  دیگر کورسز کے ساتھ مکینیکل۔سول آٹو میں ڈپلومہ کرنے کی بھی سہولت۔ نیز یہاں ڈسپنسر اور فارمیسی کے کورس بھی کروائے جاتے ہیں"
خوف خدا۔ ۔ ۔ کالج نا ہو گیا چاچے میدے کی دکان ہو گئی۔ جس نے گھی۔تیل صابن کے ساتھ پٹرول ڈیزل اور دودھ دہی بھی رکھے ہوئے ہیں۔ نیز ختنے کروانے کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
ایسے کالجوں سے فارغ التحصیل طلباء کا حال بیوٹی پارلر کی اس دلہن کی طرح ہوتا ہے جو ویسے تو عام شکل و صورت کی ہوتی ہے لیکن لیپا تھوپی کر کے حور بنا کے نکالا جاتا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ منہ دھوتے ہی وہ حور چڑیل کی شکل میں نکھر کے سامنے آ جاتی ہے۔۔
 اسی طرح یہ طلباء بھی ڈگری حاصل کر کے عملی میدان میں داخل ہوتے ہیں۔ تو ان کے پلے کچھ نہیں ہوتا اور ساری محنت ٹائیں ٹائیں فششش ہو جاتی ہے۔

دور کیوں جائیے میں اس کی ایک تازہ مثال آپ کو اپنے علاقہ سے دیتا ہوں۔ میرے ایک دوست کی زمین ساہیوال بائی پاس پر یونیق سی۔این۔جی کے ساتھ خالی پڑی ہوئی تھی۔ ساہیوال میں ریسورنٹ کا بڑھتا رجحان دیکھ کر انہوں نے بھی "منصب ریسٹورنٹ" نام سے ریستوران کھول لیا۔ لیکن وہ نا چل سکا۔ پھر انہوں نے اس کا نام بدل کے "الخیر ریسٹورنٹ" رکھا۔ ایف۔ایم اور کیبل کے ذریعے خوب تشہیر کی لیکن بات نا بنی۔ پھر انہوں نے سوچا ذرا مختلف نام رکھ کے دیکھتے ہیں سو پھر سے ریستوران کا نام "ہانڈی ریسٹورینٹ" رکھ کے چلانے کی کوشش کی لیکن گاہک تھے کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
کافی سوچ و بچار کے بعد انہوں نے پھر سے اس کا نام بدلا۔ نا صرف نام بدلا اور اسے "بلیو سٹار" رکھا بلکہ عمارت کی پوری شکل ہی بدل دی۔ تمام عمارت پر نیلے رنگ کے شیشوں کا کام کروایا اور لان وغیرہ پر بھی توجہ دی۔ بچوں کے لیے جھولے وغیرہ بھی لگوائے۔ الغرض اپنی تمام جمع پونجی لگا دی۔ لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ ریستوران نے نا چلنا تھا۔ سو نا چلا۔ محترم دوست نے اس جگہ کو ہی منحوس جانتے ہوئے ہمت ہار دی۔

کچھ عرصہ بعد ان کے پاس ایک انویسٹر آئے اور یہ جگہ خریدنے کی خواہش ظاہر کی۔ دوست نے موقع غنیمت سمجھتے ہوئے عمارت سمیت زمین اونے پونے داموں بیچ دی۔ ہم نے جب ان سے پوچھا کہ آپ نے اتنی کم قیمت میں عمارت بیچ دی۔ اتنے کا تو ملبہ بھی نہیں تھا۔ تو فرمانے لگے۔"یہ جگہ منحوس ہے۔ یہاں کوئی کاروبار نہیں ہو سکتا سو بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی"

خیر نئے آنے والے صاحب نے عمارت میں تھوڑی بہت تبدیلیاں کی اور پرائیویٹ کالج کھول لیا۔ لیجیے جناب ابھی اس کالج کو کھلے چند ماہ ہی ہوئے ہیں۔ اور پارکنگ میں موٹر سائیکلوں کی بہار نظر آنے لگی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ موصوف نے کوئی نئی ڈگری ہی ایجاد کی ہے۔ ڈاکٹر آف نیوٹریشن۔ پہلے تو عمریں لگ جاتی تھیں ڈاکٹر کہلوانے کے لیے۔ لیکن موصوف نے ایک ہی سال میں ڈاکٹر بنا کے نکالنے کا دعوی کیا ہے۔
ہم ایک دن ان صاحب سے ملنے گئے اور پوچھا کہ بھائی آپ نے کیا کیا ہے؟ نا دور دور تک آبادی نا ہی کسی اور کاروبار کے نشان منحوس سی جگہ پہ راتوں رات رونق کیسے لگا لی۔ تو ہنس کے فرمانے لگے "ابھی تو ابتدائے عشق ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا"
اور اس کا بات کا اظہار ایک اور بورڈ لگا دیکھ کر ہو گیا ہے۔ جس پر نا جانے کون سی جناتی زبان میں مزید نئی ڈگریوں کی تفصیل لکھی ہے۔ جو اس کالج سے کروائی جائیں گی۔
یہ بھی سنا ہے کہ فزیو ٹریننگ کے لیے بہت مہان قسم کی چھیل چھبیلی ناروں کا بھی بندوبست کیا گیا ہے۔ جن کو دیکھتے ہی لڑکے بالے امنڈ امنڈ کے آ رہے ہیں۔ اور جوش جنوں دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔
یہ تو ایک مثال تھی۔ تعلیم کے شعبہ میں ایسی ترقی آپ کو جابجا نظر آئے گی۔ اور آپ بھی میری طرح اس بات کو مان جائیں گے۔ کہ ملک میں تعلیم ایک نفع بخش کاروبار کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ جس میں میعار تعلیم کم اور کاروبار زیادہ ہے۔

Wednesday, November 25, 2015

گزشتہ سے پیوستہ

ویسے ہر کسی کی اپنی سوچ ہوتی ہے۔ کچھ دوستوں کے ذہن میں کیٹ ونسلیٹ۔ ایشوریہ رائے اور مدھو بالا کا خیال آیا ہو گا۔ تو کچھ اپنے محبوب کے تصور میں کھو گئے ہوں گے۔ لیکن ایسے حسن والے خال خال ہی ملتے ہیں جن کو دیکھتے ہی خیال آئے کہ۔ ۔ ۔
یہ سنگ مرمر سے تراشا ہوا حسین بدن
اتنا دل کش ہے کہ اپنانے کو جی چاہتا ہے

یہ سب تو وہ ہے جسے ظاہری حسن کہتے ہیں۔ اس کا تعلق جسم سے ہے۔ جو آنکھوں کو نظر آتا ہے۔ خوبصورت نشیلی آنکھیں۔ رسیلے ہونٹ کشادہ پیشانی۔ بھرا ہوا جسم۔ ۔ ۔ ۔
سب ظاہری حسن سے تعلق رکھتے ہیں۔
ایک باطنی حسن بھی ہوتا ہے۔ جس کا تعلق روح سے ہے جو آنکھ کو نظر نہیں آتا صرف دل والوں کی سمجھ میں آتا ہے۔
باطنی حسن کی سب سے بڑی خصوصیت کردار ہے۔ کردار سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص باطنی حسن میں کس حدتک حسین ہے۔
خلوص نیت۔ ایمانداری اعلی کردار اصول پسندی۔ یہ سب وہ خصوصیات ہیں جن کا تعلق باطنی حسن سے ہے۔
ظاہری حسن کی تعریف تو ہر کوئی کرتا ہے۔ باطنی حسن کی تعریف وہی کر سکتے ہیں جو خود باطنی حسن کے مالک ہوتے ہیں۔ کیونکہ باطنی حسن کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ ظاہری اور جسمانی خوبصورتی پہ تو بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ شاعروں نے پورے پورے دیوان لکھ ڈالے۔ لیکن باطنی حسن کو الفاظ میں بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ڈائریکٹ دل کی زبان میں بیاں ہو سکتا ہے۔
اگر باطنی حسن کو بیان کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تو شاید مجنوں گریبان چاک کر کے ویرانوں میں نا پھرتا بلکہ دنیا کو بتاتا کہ کالی ہونے کے باوجود وہ لیلی سے بے پناہ پیار کیوں کرتا ہے۔ یہ بات نا ہی سمجھائی جا سکتی ہے اور نا ہی لفظوں سے سمجھ میں آتی ہے۔ اس لیے باطنی حسن پہ میں مزید کچھ بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ صرف اتنا کہوں گا۔ کہ اگر ظاہری حسن پہ پیار آ جائے تو  بدل بھی سکتا ہے۔ مگر باطنی حسن سے پیار کرنے والے یا تو ایک ہو جاتے ہیں۔ یا پھر 
چاک گریباں دیوانے گلیوں کی خاک چھانتے ہیں۔

حسن

حسین لوگوں کے عاشق بہت ہوا کرتے ہیں۔ پر کچھ لوگوں پر تو خود حسن ہی عاشق ہو جاتا ہے۔ سر تا پاؤں سراپا حسن۔
کیا آنکھ کیا گال ۔ کیا ہونٹ کیا رنگ۔ اور کیا نین نقش۔ چہرہ تو ایک طرف ہر انگ اتنا حسین ہوتا ہے کہ بیان سے باہر۔ مزید کچھ لکھوں گا تو بات شاید اخلاق کے دائرے سے باہر چلی جائے۔
اتنا ہے کہ ایسے حسین لوگوں کو دیکھ کر قدرت کی صناعی کی تعریف کرنے کو خودبخود جی چاہتا ہے۔ انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ  نا جانے وہ قلم کیسا ہو گا جس سے یہ بدن تراشا گیا۔ وہ مصور کیسا ہو گا جس نے یہ حسین شاہکار تخلیق کیا۔

بقول شاعر۔ ۔ ۔ خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے۔ ایسے حسین لوگوں کی ادائیں بھی نرالی ہوتی ہیں۔ بولنے کا انداز۔ چال ڈھال۔ غرض ہر ادا میں اپنا ایک حسن ہوتا ہے۔
گویا یک نا شد دو شد کے مصداق جسمانی حسن تو اپنی جگہ ادائیں اس سے بھی بڑھ کرہوتی ہیں۔
چلیں تو بڑے بڑے ایمان والوں کے دل ڈول جائیں۔ بولیں تو ہوائیں بھی رک کر سنا کریں۔ مسکرائیں تو اردگرد کا ہر منظر کھکھلا اٹھے۔ خاموش ہوں تو خلا کی تنہائی بھی رشک کرے۔
دیکھنے کی ادا اتنی قاتل کہ دل والے ایک نگاہ سے ہی بسمل تڑپنے لگیں۔ اور روٹھنا ایسا کہ یوں لگے کہ دنیا ہی روٹھ گئی۔
آپ کو تو شاید یہ مبالغہ لگے۔ لیکن جو سینے میں دھڑکتا حساس دل رکھتے ہیں وہی سمجھ سکتے ہیں۔ میں کیا کہہ رہا ہوں

۔



Monday, November 16, 2015

انھے ہتھ بٹیرا

"انھے ہتھ بٹیرا"
کہتے ہیں کہ کسی گاؤں میں چار دوست رہا کرتے تھے۔ وہ شکار کے شوقین تھے اور شکار کے لیے اکٹھے نکلتے تھے۔ اسی گاؤں میں ایک اندھا رہا کرتا تھا۔ ایک دن اندھے کے اصرار پر دوست اسے بھی شکار پر ساتھ لے گئے۔ اب قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ اس دن کوئی شکار نا ملا۔ سب دوست اندھے کو برا بھلا کہنے لگے کہ تمہاری وجہ سے شکار نہیں ملا۔ آئندہ تمہیں کبھی ساتھ نہیں لائیں گے۔
واپسی کے راستے میں اندھا رفع حاجت کے لیے جھاڑیوں میں گیا تو قدرتاً مٹی کا ڈھیلہ اٹھاتے وقت ایک سویا ہوا بٹیرا اس کے ہاتھ لگ گیا۔ اس نے جب کوئی چیز زندہ محسوس کی تو اسے لا کے دوستوں کو دکھایا تو وہ بہت خوش ہوئے کہ واہ تمہارے ہاتھ تو بٹیر آ گیا ہے۔ اس پر اندھا خوشی سے ناچنے لگا اور کہنے لگا۔ اب تو ہم روز شکار پہ آیا کریں گے۔

تب سے پنجابی میں یہ مثال مشہور ہے "انھے ہتھ بٹیرا". جب بھی کسی کو غیر متوقع طور پر کوئی چیز مل جائے اور وہ اسے کامیابی سمجھ کر خوش ہوتا پھرے اور اتراتا سب کو بتاتا پھرے تو یہ مثال دی جاتی ہے۔
سانحہ فرانس کے بعد فیس بک کی جانب سے ڈی۔پی کے رنگ بدلنے کی سہولت دیے جانے پر ہماری قوم کا بھی یہی حال ہے۔ فیس بک کی جانب سے سہولت دیے جانے کے بعد دوستوں کی ڈی۔پیز نے اس سرعت سے رنگ بدلے کہ میں حیران رہ گیا۔ کیئوں نے تو بغیر سوچے سمجھے ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی اس طرح تصویر کو بدلا جیسے یہ کوئی انوکھا کام ہو۔ جبکہ کئی دوستوں نے اہل فرانس سے اظہار یکجہتی کے طور پر یہ کام کیا۔ لیکن اس بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش بہت کم لوگوں نے کی کہ آخر ان رنگوں کا مقصد کیا ہے۔ میں نے تب بھی اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ اظہار یکجہتی صرف فرانسیسیوں کے ساتھ ہی نہیں اہل شام کے ساتھ بھی کی جانی چاہیے۔ یہ اور بات ہے کہ میں نے اپنا مؤقف بہت محتاط ہو کر دیا تھا۔ کیونکہ ذرا ذرا سی بات پر اور اپنا نکتہ نظر بیان کرنے پر اسلامی شدت پسندی کا لیبل لگانا ہمارے معاشرے کا وطیرہ بن چکا ہے۔
اب جبکہ اکثر دوست ان رنگوں کی اصلیت کو جان چکے ہیں۔ رفتہ رفتہ خفت کے ساتھ اپنی اصلیت پہ آ رہے ہیں۔ جبکہ کچھ کی نظر میں اب بھی یہ اظہار یکجہتی کا ذریعہ ہے۔ ٹھیک ہے ہونا چاہیے۔ لیکن یہ اظہار یکجہتی عراق شام اور پاکستان سمیت دیگر ممالک میں ہونے والے سانحوں میں بھی کیا جانا چاہیے۔
دنیا کا کون سا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ آپ ایک واقعہ کی تحقیق مکمل ہونے سے پہلے دوسرے ملک میں بمباری کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں؟
اگر اس کی مذمت نہیں کی جا سکتی تو کم از کم شام میں غیرملکیوں کی بمباری اور عراق پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک میں ہونے والے خودکش دھماکوں کے بعد بھی اظہار یکجہتی اور پروفائل متعلقہ ممالک کے جھنڈوں میں بدلنے کی سہولت ہونی چاہیے۔
بصورت دیگر فیس بک کی یہ سہولت ہم پاکستانیوں کے لیے "انھے ہتھ بٹیرا" لگنے والی بات ہی ہے۔ جس سے ہم بناء سوچے سمجھے اپنی تصویروں کو نیلے پیلے رنگ دے کر خوش ہو رہے ہیں۔

Saturday, November 14, 2015

آپ بھی اپنی اداؤں پہ زرا غور کیجیے

فرانس میں آج ہونے والا واقعہ ایک افسوسناک
سانحہ ہے۔اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن یہ اہل مغرب کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ جو پراکسی وار اسلامی خصوصاً عرب ممالک میں لڑی جا رہی ہے اس کے اثرات یورپ تک بھی پہنچیں گے۔ جو آگ اپنے مخصوص مفادات کے لیے مسلمانوں میں لگائی جا رہی ہے اس کی چنگاریاں اس کے لگانے والوں کو بھی جلا ڈالیں گی۔
ناحق خون کسی کا بھی بہے خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر۔ قابل مذمت ہے۔ لیکن اپنے مفادات کی خاطر دوسروں میں انتشار پھیلانے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ یہ فساد ایک نا ایک دن آپ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
اللہ پاک نے قران کریم کی سورہ بقرہ میں ارشاد فرمایا ہے کہ
"یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں۔ مگر انہیں علم نہیں"
اسلامی ممالک میں پراکسی وار کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرنے والوں کو سوچ لینا چاہیے کہ اس کا نتیجہ پوری دنیا میں تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ اس لیے اگر وہ واقعی دنیا میں امن چاہتے ہیں تو دوسروں کے معاملات میں ٹانگ نا اڑائیں۔ اپنے کام سے کام رکھیں۔ دوسرے خود ہی فیصلہ کر لیں گے کہ انہیں جمہوریت چاہیے یا آمریت۔ سوشلزم لانا چاہتے ہیں یا سرمایہ دارانہ نظام۔
آپ اپنے جدید ہتھیاروں کی مشق آزمائی اپنے ویرانوں یا کھیت کھلیانوں میں کریں۔ نہتے بے گناہ انسانوں کو اس کی بھینٹ نا چڑھائیں۔ سٹیڈیم میں بے گناہ انسانوں کے قتل عام پر مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ
آپ بھی ذرا اپنی اداؤں پہ غور کریں

Sunday, March 15, 2015

Virtual University


GOOD BYE VU
آج میرا آخری پیپر تھآ۔ چند سال پہلے دوستوں کی محفل میں بیٹھے بیٹھے اچانک اشتہار دیکھ کر ایڈمشن کے لیے اپلائی کرتے وقت یہ نہیں سوچا تھا کہ میرا اور VU ساتھ اتنا یادگار اور طویل ہو جائے گا۔
تب VU کے پیپر روایتی کاغذی شیٹ پر ہوا کرتے تھے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے یونیورسٹی کے امتحانی نظام نے جدید شکل اختیار کر لی۔ اور آج اسکا آن لائن نظام بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے ہم پلہ ہے۔
کچھ دوست ہر وقت یونیورسٹی کو کوستے اور اسکی ریٹنگ کا رونا روتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ ورچوئل یونیورسٹی ہی ہے جسکی بدولت مجھ جیسے سرکاری ملازم جو اپنی جاب کی مجبوریوں کی وجہ سے پڑھ نہیں سکتے وہ بھی اپنی تعلیم کو باوقار طریقے سے جاری رکھ سکتے ہیں۔
اگر VU نہ ہوتی تو شاید میں آج بھی سب انجینئر کی پوسٹ پر کام کر رہا ہوتا۔ شکریہ VU کہ جس نے مجھے آگے بڑھنے کے مواقعے دیے اور سب سے بڑھ کر ایسے "دوست" دیے جنکو میں ساری زندگی نہیں بھلا سکتا

Thursday, January 29, 2015

کیا واقعی ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے



گزشتہ دنوں پاکستانی نژاد باکسر کی امریکی باکسر پر فتح کا دنیا بھر کے اخبارات اور میڈیا پر چرچا رہا۔
پاکستان کی تمام سیاسی اور عسکری قیادت نے عامر خان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔
حال ہی میں عامر خان پاکستان آئے تو ان کی وزیراعظم اور آرمی چیف سمیت تمام اعلی قیادت کے ساتھ ملاقات ہوئی ۔ اس کے علاوہ انہیں پاکستانی میڈیا میں بھی خصوصی توجہ حاصل رہی

بلاشبہ عامر خان کا پاکستانی ہونا ہم سب کے لیے اعزاز اور فخر کا باعث ہے۔ لیکن اس سارے شورشرابے کے دوران کھیل کے میدان میں پاکستان کی ایک اور اہم ترین فتح کو نظر انداز کر دیا گیا، اور وہ تھی چیمپیئنزکے سیمی فائنل میں پاکستان کی روائتی حریف بھارت کےخلاف فتح۔


انڈیا میں ہوئے ہاکی چیمپینز کے سیمی فائنل میں پاکستان نے سولہ سال کے بعد روایتی حریف بھارت کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی۔ جس کا بدلہ بھارتیوں نے فائنل میں پاکستان کے دو کھلاڑیوں پر پابندی لگوا کے لیا۔
بھارتی میڈیا اور سوسائٹی نے تعصب پر مبنی اتنا پروپیگنڈا کیا کہ ہاکی فیڈریشن کو بھی ہتھیار ڈالنے پڑے اور فائنل میں پاکستان کے دو اہم کھلاڑیوں پر پابندی لگا دی۔ جس کا نتیجہ پاکستان کو شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا۔
فائنل میں پاکستان کی شکست کے کیا اسباب تھے اور بھارت کا رویہ مناسب تھا یا نہیں یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔
یہ بہر حال ایک حقیقت ہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم نے ملک کے قومی کھیل میں روایتی حریف بھارت کو شکست دے کر نہ صرف ملک میں زوال پزیر ہاکی کے کھیل کو نئی جہت دی بلکہ شائقین کے بھی دل جیت لیے۔
لیکن اسے ہماری قوم کی بےحسی کہیے یا ارباب اقتدار کی چشم پوشی کہ پاکستان کے قومی کھیل میں عرصہ بعد اس شاندار جیت کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا۔


ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان ہاکی ٹیم کا واپسی پہ نہ صرف شاندار استقبال کیا جاتابلکہ وزیر اعظم اور اعلی قیادت سےملاقات کروا کر ٹیم کی حوصلہ افزائی کی جاتی اور انعام اکرام سے نوازا جاتا۔ کجا یہ کہ قومی ٹیم کی فتح کو بھلا کر برطانوی باکسر کو نمایاں کوریج دی گئی۔ اور قومی کھیل کے سلسلے میں معاملی رواتی بیانات تک محدود رکھا گیا۔
پاکستان ہاکی ٹیم جس طرح مالی مشکلات اور فنڈز کی عدم دستیابی کا شکار رہی وہ ایک الگ قصہ ہے۔


یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے؟


اگر ہاں تو اسکے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک بند کر کے اسے وہ مقام ملنا چاہیے جو قومی کھیل کا ہوتا ہے۔ بصورت دیگر، ارباب اقتدار سے گزارش ہے کہ وہ پاکستان کا قومی کھیل تبدیل کر کے باکسنگ یا پھر کرکٹ رکھ دے، تا کہ قومی کھیل سے یہ بےاعتنائی مجھ جیسے عام پاکستانیوں کی دل آزاری کا باعث نہ بنے۔

ندیم رزاق کھوہارا