کیا واقعی ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے
گزشتہ دنوں پاکستانی نژاد باکسر کی امریکی باکسر پر فتح کا دنیا بھر کے اخبارات اور میڈیا پر چرچا رہا۔
پاکستان کی تمام سیاسی اور عسکری قیادت نے عامر خان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔
حال ہی میں عامر خان پاکستان آئے تو ان کی وزیراعظم اور آرمی چیف سمیت تمام اعلی قیادت کے ساتھ ملاقات ہوئی ۔ اس کے علاوہ انہیں پاکستانی میڈیا میں بھی خصوصی توجہ حاصل رہی
بلاشبہ عامر خان کا پاکستانی ہونا ہم سب کے لیے اعزاز اور فخر کا باعث ہے۔ لیکن اس سارے شورشرابے کے دوران کھیل کے میدان میں پاکستان کی ایک اور اہم ترین فتح کو نظر انداز کر دیا گیا، اور وہ تھی چیمپیئنزکے سیمی فائنل میں پاکستان کی روائتی حریف بھارت کےخلاف فتح۔
انڈیا میں ہوئے ہاکی چیمپینز کے سیمی فائنل میں پاکستان نے سولہ سال کے بعد روایتی حریف بھارت کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی۔ جس کا بدلہ بھارتیوں نے فائنل میں پاکستان کے دو کھلاڑیوں پر پابندی لگوا کے لیا۔
بھارتی میڈیا اور سوسائٹی نے تعصب پر مبنی اتنا پروپیگنڈا کیا کہ ہاکی فیڈریشن کو بھی ہتھیار ڈالنے پڑے اور فائنل میں پاکستان کے دو اہم کھلاڑیوں پر پابندی لگا دی۔ جس کا نتیجہ پاکستان کو شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا۔
فائنل میں پاکستان کی شکست کے کیا اسباب تھے اور بھارت کا رویہ مناسب تھا یا نہیں یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔
یہ بہر حال ایک حقیقت ہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم نے ملک کے قومی کھیل میں روایتی حریف بھارت کو شکست دے کر نہ صرف ملک میں زوال پزیر ہاکی کے کھیل کو نئی جہت دی بلکہ شائقین کے بھی دل جیت لیے۔
لیکن اسے ہماری قوم کی بےحسی کہیے یا ارباب اقتدار کی چشم پوشی کہ پاکستان کے قومی کھیل میں عرصہ بعد اس شاندار جیت کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان ہاکی ٹیم کا واپسی پہ نہ صرف شاندار استقبال کیا جاتابلکہ وزیر اعظم اور اعلی قیادت سےملاقات کروا کر ٹیم کی حوصلہ افزائی کی جاتی اور انعام اکرام سے نوازا جاتا۔ کجا یہ کہ قومی ٹیم کی فتح کو بھلا کر برطانوی باکسر کو نمایاں کوریج دی گئی۔ اور قومی کھیل کے سلسلے میں معاملی رواتی بیانات تک محدود رکھا گیا۔
پاکستان ہاکی ٹیم جس طرح مالی مشکلات اور فنڈز کی عدم دستیابی کا شکار رہی وہ ایک الگ قصہ ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے؟
اگر ہاں تو اسکے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک بند کر کے اسے وہ مقام ملنا چاہیے جو قومی کھیل کا ہوتا ہے۔ بصورت دیگر، ارباب اقتدار سے گزارش ہے کہ وہ پاکستان کا قومی کھیل تبدیل کر کے باکسنگ یا پھر کرکٹ رکھ دے، تا کہ قومی کھیل سے یہ بےاعتنائی مجھ جیسے عام پاکستانیوں کی دل آزاری کا باعث نہ بنے۔
ندیم رزاق کھوہارا