وطن عزیز میں تعلیم کا شعبہ بھی ایک کاروبار کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ جگہ جگہ کھلنے والے پرائیویٹ سکول اور کالج ایزی لوڈ کی دکانوں کا سا منظر پیش کرتے ہیں۔ میں نے ایک کالج کے سامنے بورڈ لگا دیکھا جس پہ لکھا ہوا تھا
"یہاں Bsc کے تمام پیکج کروائے جاتے ہیں"
گویا Bsc نا ہوئی جم خانہ کلب کی رکنیت ہو گئی جہاں مختلف پیکج پر ایکسرسائز کروائی جاتی ہے۔ ویسے ایسی جگہوں پر تعلیم بھی ایکسرسائیز کی طرح ہی دی جاتی ہے۔ جہاں سے طالبعلم ۔ پیشہ ورانہ مہارت دینے کی بجائے "سٹار وارز" کی فلموں کی طرح روبوٹ بنا کر نکالے جاتے ہیں۔ جنہیں صرف ناک کی سیدھ میں چلنا آتا ہے۔ نا دائیں دیکھ سکتے نا بائیں۔
مخلوط تعلیم اور گلیمر کی چکاچوند کے شکار ایسے کالجز میں طلبہ کا زیادہ وقت نین مٹکے میں گزرتا ہے۔ اور اساتذہ بجائے خود نت نئی جوڑیوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ لیکچرز کی خانہ پری کی جاتی ہے اور پھر پڑھائی کے نام پر اسائنمنٹس کا انبار دے دیا جاتا ہے تا کہ اصل پڑھائی اور سوال کی بجائےطلباء ان کو بنانے اور ادھر ادھر سے چوری کرنے میں ہی مگن رہیں۔ کہ نا ڈھولا ہوسی تے نا رولا ہوسی.
ستم ظریفی یہ ہے کہ اس طرح کے کالجز کا الحاق تو ایک آدھ گم نام یونیورسٹی سے ہوتا ہے۔ لیکن اشتہار میں ہر طرح کے کورسز لکھ دیے جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک اشتہار نظر سے گزرا جس میں لکھا ہوا تھا "وفاقی اردو یونیورسٹی سے الحاق شدہ۔ دیگر کورسز کے ساتھ مکینیکل۔سول آٹو میں ڈپلومہ کرنے کی بھی سہولت۔ نیز یہاں ڈسپنسر اور فارمیسی کے کورس بھی کروائے جاتے ہیں"
خوف خدا۔ ۔ ۔ کالج نا ہو گیا چاچے میدے کی دکان ہو گئی۔ جس نے گھی۔تیل صابن کے ساتھ پٹرول ڈیزل اور دودھ دہی بھی رکھے ہوئے ہیں۔ نیز ختنے کروانے کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
ایسے کالجوں سے فارغ التحصیل طلباء کا حال بیوٹی پارلر کی اس دلہن کی طرح ہوتا ہے جو ویسے تو عام شکل و صورت کی ہوتی ہے لیکن لیپا تھوپی کر کے حور بنا کے نکالا جاتا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ منہ دھوتے ہی وہ حور چڑیل کی شکل میں نکھر کے سامنے آ جاتی ہے۔۔
اسی طرح یہ طلباء بھی ڈگری حاصل کر کے عملی میدان میں داخل ہوتے ہیں۔ تو ان کے پلے کچھ نہیں ہوتا اور ساری محنت ٹائیں ٹائیں فششش ہو جاتی ہے۔
دور کیوں جائیے میں اس کی ایک تازہ مثال آپ کو اپنے علاقہ سے دیتا ہوں۔ میرے ایک دوست کی زمین ساہیوال بائی پاس پر یونیق سی۔این۔جی کے ساتھ خالی پڑی ہوئی تھی۔ ساہیوال میں ریسورنٹ کا بڑھتا رجحان دیکھ کر انہوں نے بھی "منصب ریسٹورنٹ" نام سے ریستوران کھول لیا۔ لیکن وہ نا چل سکا۔ پھر انہوں نے اس کا نام بدل کے "الخیر ریسٹورنٹ" رکھا۔ ایف۔ایم اور کیبل کے ذریعے خوب تشہیر کی لیکن بات نا بنی۔ پھر انہوں نے سوچا ذرا مختلف نام رکھ کے دیکھتے ہیں سو پھر سے ریستوران کا نام "ہانڈی ریسٹورینٹ" رکھ کے چلانے کی کوشش کی لیکن گاہک تھے کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
کافی سوچ و بچار کے بعد انہوں نے پھر سے اس کا نام بدلا۔ نا صرف نام بدلا اور اسے "بلیو سٹار" رکھا بلکہ عمارت کی پوری شکل ہی بدل دی۔ تمام عمارت پر نیلے رنگ کے شیشوں کا کام کروایا اور لان وغیرہ پر بھی توجہ دی۔ بچوں کے لیے جھولے وغیرہ بھی لگوائے۔ الغرض اپنی تمام جمع پونجی لگا دی۔ لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ ریستوران نے نا چلنا تھا۔ سو نا چلا۔ محترم دوست نے اس جگہ کو ہی منحوس جانتے ہوئے ہمت ہار دی۔
کچھ عرصہ بعد ان کے پاس ایک انویسٹر آئے اور یہ جگہ خریدنے کی خواہش ظاہر کی۔ دوست نے موقع غنیمت سمجھتے ہوئے عمارت سمیت زمین اونے پونے داموں بیچ دی۔ ہم نے جب ان سے پوچھا کہ آپ نے اتنی کم قیمت میں عمارت بیچ دی۔ اتنے کا تو ملبہ بھی نہیں تھا۔ تو فرمانے لگے۔"یہ جگہ منحوس ہے۔ یہاں کوئی کاروبار نہیں ہو سکتا سو بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی"
خیر نئے آنے والے صاحب نے عمارت میں تھوڑی بہت تبدیلیاں کی اور پرائیویٹ کالج کھول لیا۔ لیجیے جناب ابھی اس کالج کو کھلے چند ماہ ہی ہوئے ہیں۔ اور پارکنگ میں موٹر سائیکلوں کی بہار نظر آنے لگی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ موصوف نے کوئی نئی ڈگری ہی ایجاد کی ہے۔ ڈاکٹر آف نیوٹریشن۔ پہلے تو عمریں لگ جاتی تھیں ڈاکٹر کہلوانے کے لیے۔ لیکن موصوف نے ایک ہی سال میں ڈاکٹر بنا کے نکالنے کا دعوی کیا ہے۔
ہم ایک دن ان صاحب سے ملنے گئے اور پوچھا کہ بھائی آپ نے کیا کیا ہے؟ نا دور دور تک آبادی نا ہی کسی اور کاروبار کے نشان منحوس سی جگہ پہ راتوں رات رونق کیسے لگا لی۔ تو ہنس کے فرمانے لگے "ابھی تو ابتدائے عشق ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا"
اور اس کا بات کا اظہار ایک اور بورڈ لگا دیکھ کر ہو گیا ہے۔ جس پر نا جانے کون سی جناتی زبان میں مزید نئی ڈگریوں کی تفصیل لکھی ہے۔ جو اس کالج سے کروائی جائیں گی۔
یہ بھی سنا ہے کہ فزیو ٹریننگ کے لیے بہت مہان قسم کی چھیل چھبیلی ناروں کا بھی بندوبست کیا گیا ہے۔ جن کو دیکھتے ہی لڑکے بالے امنڈ امنڈ کے آ رہے ہیں۔ اور جوش جنوں دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔
یہ تو ایک مثال تھی۔ تعلیم کے شعبہ میں ایسی ترقی آپ کو جابجا نظر آئے گی۔ اور آپ بھی میری طرح اس بات کو مان جائیں گے۔ کہ ملک میں تعلیم ایک نفع بخش کاروبار کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ جس میں میعار تعلیم کم اور کاروبار زیادہ ہے۔
"یہاں Bsc کے تمام پیکج کروائے جاتے ہیں"
گویا Bsc نا ہوئی جم خانہ کلب کی رکنیت ہو گئی جہاں مختلف پیکج پر ایکسرسائز کروائی جاتی ہے۔ ویسے ایسی جگہوں پر تعلیم بھی ایکسرسائیز کی طرح ہی دی جاتی ہے۔ جہاں سے طالبعلم ۔ پیشہ ورانہ مہارت دینے کی بجائے "سٹار وارز" کی فلموں کی طرح روبوٹ بنا کر نکالے جاتے ہیں۔ جنہیں صرف ناک کی سیدھ میں چلنا آتا ہے۔ نا دائیں دیکھ سکتے نا بائیں۔
مخلوط تعلیم اور گلیمر کی چکاچوند کے شکار ایسے کالجز میں طلبہ کا زیادہ وقت نین مٹکے میں گزرتا ہے۔ اور اساتذہ بجائے خود نت نئی جوڑیوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ لیکچرز کی خانہ پری کی جاتی ہے اور پھر پڑھائی کے نام پر اسائنمنٹس کا انبار دے دیا جاتا ہے تا کہ اصل پڑھائی اور سوال کی بجائےطلباء ان کو بنانے اور ادھر ادھر سے چوری کرنے میں ہی مگن رہیں۔ کہ نا ڈھولا ہوسی تے نا رولا ہوسی.
ستم ظریفی یہ ہے کہ اس طرح کے کالجز کا الحاق تو ایک آدھ گم نام یونیورسٹی سے ہوتا ہے۔ لیکن اشتہار میں ہر طرح کے کورسز لکھ دیے جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک اشتہار نظر سے گزرا جس میں لکھا ہوا تھا "وفاقی اردو یونیورسٹی سے الحاق شدہ۔ دیگر کورسز کے ساتھ مکینیکل۔سول آٹو میں ڈپلومہ کرنے کی بھی سہولت۔ نیز یہاں ڈسپنسر اور فارمیسی کے کورس بھی کروائے جاتے ہیں"
خوف خدا۔ ۔ ۔ کالج نا ہو گیا چاچے میدے کی دکان ہو گئی۔ جس نے گھی۔تیل صابن کے ساتھ پٹرول ڈیزل اور دودھ دہی بھی رکھے ہوئے ہیں۔ نیز ختنے کروانے کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
ایسے کالجوں سے فارغ التحصیل طلباء کا حال بیوٹی پارلر کی اس دلہن کی طرح ہوتا ہے جو ویسے تو عام شکل و صورت کی ہوتی ہے لیکن لیپا تھوپی کر کے حور بنا کے نکالا جاتا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ منہ دھوتے ہی وہ حور چڑیل کی شکل میں نکھر کے سامنے آ جاتی ہے۔۔
اسی طرح یہ طلباء بھی ڈگری حاصل کر کے عملی میدان میں داخل ہوتے ہیں۔ تو ان کے پلے کچھ نہیں ہوتا اور ساری محنت ٹائیں ٹائیں فششش ہو جاتی ہے۔
دور کیوں جائیے میں اس کی ایک تازہ مثال آپ کو اپنے علاقہ سے دیتا ہوں۔ میرے ایک دوست کی زمین ساہیوال بائی پاس پر یونیق سی۔این۔جی کے ساتھ خالی پڑی ہوئی تھی۔ ساہیوال میں ریسورنٹ کا بڑھتا رجحان دیکھ کر انہوں نے بھی "منصب ریسٹورنٹ" نام سے ریستوران کھول لیا۔ لیکن وہ نا چل سکا۔ پھر انہوں نے اس کا نام بدل کے "الخیر ریسٹورنٹ" رکھا۔ ایف۔ایم اور کیبل کے ذریعے خوب تشہیر کی لیکن بات نا بنی۔ پھر انہوں نے سوچا ذرا مختلف نام رکھ کے دیکھتے ہیں سو پھر سے ریستوران کا نام "ہانڈی ریسٹورینٹ" رکھ کے چلانے کی کوشش کی لیکن گاہک تھے کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
کافی سوچ و بچار کے بعد انہوں نے پھر سے اس کا نام بدلا۔ نا صرف نام بدلا اور اسے "بلیو سٹار" رکھا بلکہ عمارت کی پوری شکل ہی بدل دی۔ تمام عمارت پر نیلے رنگ کے شیشوں کا کام کروایا اور لان وغیرہ پر بھی توجہ دی۔ بچوں کے لیے جھولے وغیرہ بھی لگوائے۔ الغرض اپنی تمام جمع پونجی لگا دی۔ لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ ریستوران نے نا چلنا تھا۔ سو نا چلا۔ محترم دوست نے اس جگہ کو ہی منحوس جانتے ہوئے ہمت ہار دی۔
کچھ عرصہ بعد ان کے پاس ایک انویسٹر آئے اور یہ جگہ خریدنے کی خواہش ظاہر کی۔ دوست نے موقع غنیمت سمجھتے ہوئے عمارت سمیت زمین اونے پونے داموں بیچ دی۔ ہم نے جب ان سے پوچھا کہ آپ نے اتنی کم قیمت میں عمارت بیچ دی۔ اتنے کا تو ملبہ بھی نہیں تھا۔ تو فرمانے لگے۔"یہ جگہ منحوس ہے۔ یہاں کوئی کاروبار نہیں ہو سکتا سو بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی"
خیر نئے آنے والے صاحب نے عمارت میں تھوڑی بہت تبدیلیاں کی اور پرائیویٹ کالج کھول لیا۔ لیجیے جناب ابھی اس کالج کو کھلے چند ماہ ہی ہوئے ہیں۔ اور پارکنگ میں موٹر سائیکلوں کی بہار نظر آنے لگی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ موصوف نے کوئی نئی ڈگری ہی ایجاد کی ہے۔ ڈاکٹر آف نیوٹریشن۔ پہلے تو عمریں لگ جاتی تھیں ڈاکٹر کہلوانے کے لیے۔ لیکن موصوف نے ایک ہی سال میں ڈاکٹر بنا کے نکالنے کا دعوی کیا ہے۔
ہم ایک دن ان صاحب سے ملنے گئے اور پوچھا کہ بھائی آپ نے کیا کیا ہے؟ نا دور دور تک آبادی نا ہی کسی اور کاروبار کے نشان منحوس سی جگہ پہ راتوں رات رونق کیسے لگا لی۔ تو ہنس کے فرمانے لگے "ابھی تو ابتدائے عشق ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا"
اور اس کا بات کا اظہار ایک اور بورڈ لگا دیکھ کر ہو گیا ہے۔ جس پر نا جانے کون سی جناتی زبان میں مزید نئی ڈگریوں کی تفصیل لکھی ہے۔ جو اس کالج سے کروائی جائیں گی۔
یہ بھی سنا ہے کہ فزیو ٹریننگ کے لیے بہت مہان قسم کی چھیل چھبیلی ناروں کا بھی بندوبست کیا گیا ہے۔ جن کو دیکھتے ہی لڑکے بالے امنڈ امنڈ کے آ رہے ہیں۔ اور جوش جنوں دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔
یہ تو ایک مثال تھی۔ تعلیم کے شعبہ میں ایسی ترقی آپ کو جابجا نظر آئے گی۔ اور آپ بھی میری طرح اس بات کو مان جائیں گے۔ کہ ملک میں تعلیم ایک نفع بخش کاروبار کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ جس میں میعار تعلیم کم اور کاروبار زیادہ ہے۔
No comments:
Post a Comment