Saturday, November 14, 2015

آپ بھی اپنی اداؤں پہ زرا غور کیجیے

فرانس میں آج ہونے والا واقعہ ایک افسوسناک
سانحہ ہے۔اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن یہ اہل مغرب کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ جو پراکسی وار اسلامی خصوصاً عرب ممالک میں لڑی جا رہی ہے اس کے اثرات یورپ تک بھی پہنچیں گے۔ جو آگ اپنے مخصوص مفادات کے لیے مسلمانوں میں لگائی جا رہی ہے اس کی چنگاریاں اس کے لگانے والوں کو بھی جلا ڈالیں گی۔
ناحق خون کسی کا بھی بہے خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر۔ قابل مذمت ہے۔ لیکن اپنے مفادات کی خاطر دوسروں میں انتشار پھیلانے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ یہ فساد ایک نا ایک دن آپ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
اللہ پاک نے قران کریم کی سورہ بقرہ میں ارشاد فرمایا ہے کہ
"یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں۔ مگر انہیں علم نہیں"
اسلامی ممالک میں پراکسی وار کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرنے والوں کو سوچ لینا چاہیے کہ اس کا نتیجہ پوری دنیا میں تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ اس لیے اگر وہ واقعی دنیا میں امن چاہتے ہیں تو دوسروں کے معاملات میں ٹانگ نا اڑائیں۔ اپنے کام سے کام رکھیں۔ دوسرے خود ہی فیصلہ کر لیں گے کہ انہیں جمہوریت چاہیے یا آمریت۔ سوشلزم لانا چاہتے ہیں یا سرمایہ دارانہ نظام۔
آپ اپنے جدید ہتھیاروں کی مشق آزمائی اپنے ویرانوں یا کھیت کھلیانوں میں کریں۔ نہتے بے گناہ انسانوں کو اس کی بھینٹ نا چڑھائیں۔ سٹیڈیم میں بے گناہ انسانوں کے قتل عام پر مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ
آپ بھی ذرا اپنی اداؤں پہ غور کریں

No comments:

Post a Comment