"انھے ہتھ بٹیرا"
کہتے ہیں کہ کسی گاؤں میں چار دوست رہا کرتے تھے۔ وہ شکار کے شوقین تھے اور شکار کے لیے اکٹھے نکلتے تھے۔ اسی گاؤں میں ایک اندھا رہا کرتا تھا۔ ایک دن اندھے کے اصرار پر دوست اسے بھی شکار پر ساتھ لے گئے۔ اب قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ اس دن کوئی شکار نا ملا۔ سب دوست اندھے کو برا بھلا کہنے لگے کہ تمہاری وجہ سے شکار نہیں ملا۔ آئندہ تمہیں کبھی ساتھ نہیں لائیں گے۔
واپسی کے راستے میں اندھا رفع حاجت کے لیے جھاڑیوں میں گیا تو قدرتاً مٹی کا ڈھیلہ اٹھاتے وقت ایک سویا ہوا بٹیرا اس کے ہاتھ لگ گیا۔ اس نے جب کوئی چیز زندہ محسوس کی تو اسے لا کے دوستوں کو دکھایا تو وہ بہت خوش ہوئے کہ واہ تمہارے ہاتھ تو بٹیر آ گیا ہے۔ اس پر اندھا خوشی سے ناچنے لگا اور کہنے لگا۔ اب تو ہم روز شکار پہ آیا کریں گے۔
تب سے پنجابی میں یہ مثال مشہور ہے "انھے ہتھ بٹیرا". جب بھی کسی کو غیر متوقع طور پر کوئی چیز مل جائے اور وہ اسے کامیابی سمجھ کر خوش ہوتا پھرے اور اتراتا سب کو بتاتا پھرے تو یہ مثال دی جاتی ہے۔
سانحہ فرانس کے بعد فیس بک کی جانب سے ڈی۔پی کے رنگ بدلنے کی سہولت دیے جانے پر ہماری قوم کا بھی یہی حال ہے۔ فیس بک کی جانب سے سہولت دیے جانے کے بعد دوستوں کی ڈی۔پیز نے اس سرعت سے رنگ بدلے کہ میں حیران رہ گیا۔ کیئوں نے تو بغیر سوچے سمجھے ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی اس طرح تصویر کو بدلا جیسے یہ کوئی انوکھا کام ہو۔ جبکہ کئی دوستوں نے اہل فرانس سے اظہار یکجہتی کے طور پر یہ کام کیا۔ لیکن اس بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش بہت کم لوگوں نے کی کہ آخر ان رنگوں کا مقصد کیا ہے۔ میں نے تب بھی اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ اظہار یکجہتی صرف فرانسیسیوں کے ساتھ ہی نہیں اہل شام کے ساتھ بھی کی جانی چاہیے۔ یہ اور بات ہے کہ میں نے اپنا مؤقف بہت محتاط ہو کر دیا تھا۔ کیونکہ ذرا ذرا سی بات پر اور اپنا نکتہ نظر بیان کرنے پر اسلامی شدت پسندی کا لیبل لگانا ہمارے معاشرے کا وطیرہ بن چکا ہے۔
اب جبکہ اکثر دوست ان رنگوں کی اصلیت کو جان چکے ہیں۔ رفتہ رفتہ خفت کے ساتھ اپنی اصلیت پہ آ رہے ہیں۔ جبکہ کچھ کی نظر میں اب بھی یہ اظہار یکجہتی کا ذریعہ ہے۔ ٹھیک ہے ہونا چاہیے۔ لیکن یہ اظہار یکجہتی عراق شام اور پاکستان سمیت دیگر ممالک میں ہونے والے سانحوں میں بھی کیا جانا چاہیے۔
دنیا کا کون سا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ آپ ایک واقعہ کی تحقیق مکمل ہونے سے پہلے دوسرے ملک میں بمباری کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں؟
اگر اس کی مذمت نہیں کی جا سکتی تو کم از کم شام میں غیرملکیوں کی بمباری اور عراق پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک میں ہونے والے خودکش دھماکوں کے بعد بھی اظہار یکجہتی اور پروفائل متعلقہ ممالک کے جھنڈوں میں بدلنے کی سہولت ہونی چاہیے۔
بصورت دیگر فیس بک کی یہ سہولت ہم پاکستانیوں کے لیے "انھے ہتھ بٹیرا" لگنے والی بات ہی ہے۔ جس سے ہم بناء سوچے سمجھے اپنی تصویروں کو نیلے پیلے رنگ دے کر خوش ہو رہے ہیں۔
کہتے ہیں کہ کسی گاؤں میں چار دوست رہا کرتے تھے۔ وہ شکار کے شوقین تھے اور شکار کے لیے اکٹھے نکلتے تھے۔ اسی گاؤں میں ایک اندھا رہا کرتا تھا۔ ایک دن اندھے کے اصرار پر دوست اسے بھی شکار پر ساتھ لے گئے۔ اب قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ اس دن کوئی شکار نا ملا۔ سب دوست اندھے کو برا بھلا کہنے لگے کہ تمہاری وجہ سے شکار نہیں ملا۔ آئندہ تمہیں کبھی ساتھ نہیں لائیں گے۔
واپسی کے راستے میں اندھا رفع حاجت کے لیے جھاڑیوں میں گیا تو قدرتاً مٹی کا ڈھیلہ اٹھاتے وقت ایک سویا ہوا بٹیرا اس کے ہاتھ لگ گیا۔ اس نے جب کوئی چیز زندہ محسوس کی تو اسے لا کے دوستوں کو دکھایا تو وہ بہت خوش ہوئے کہ واہ تمہارے ہاتھ تو بٹیر آ گیا ہے۔ اس پر اندھا خوشی سے ناچنے لگا اور کہنے لگا۔ اب تو ہم روز شکار پہ آیا کریں گے۔
تب سے پنجابی میں یہ مثال مشہور ہے "انھے ہتھ بٹیرا". جب بھی کسی کو غیر متوقع طور پر کوئی چیز مل جائے اور وہ اسے کامیابی سمجھ کر خوش ہوتا پھرے اور اتراتا سب کو بتاتا پھرے تو یہ مثال دی جاتی ہے۔
سانحہ فرانس کے بعد فیس بک کی جانب سے ڈی۔پی کے رنگ بدلنے کی سہولت دیے جانے پر ہماری قوم کا بھی یہی حال ہے۔ فیس بک کی جانب سے سہولت دیے جانے کے بعد دوستوں کی ڈی۔پیز نے اس سرعت سے رنگ بدلے کہ میں حیران رہ گیا۔ کیئوں نے تو بغیر سوچے سمجھے ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی اس طرح تصویر کو بدلا جیسے یہ کوئی انوکھا کام ہو۔ جبکہ کئی دوستوں نے اہل فرانس سے اظہار یکجہتی کے طور پر یہ کام کیا۔ لیکن اس بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش بہت کم لوگوں نے کی کہ آخر ان رنگوں کا مقصد کیا ہے۔ میں نے تب بھی اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ اظہار یکجہتی صرف فرانسیسیوں کے ساتھ ہی نہیں اہل شام کے ساتھ بھی کی جانی چاہیے۔ یہ اور بات ہے کہ میں نے اپنا مؤقف بہت محتاط ہو کر دیا تھا۔ کیونکہ ذرا ذرا سی بات پر اور اپنا نکتہ نظر بیان کرنے پر اسلامی شدت پسندی کا لیبل لگانا ہمارے معاشرے کا وطیرہ بن چکا ہے۔
اب جبکہ اکثر دوست ان رنگوں کی اصلیت کو جان چکے ہیں۔ رفتہ رفتہ خفت کے ساتھ اپنی اصلیت پہ آ رہے ہیں۔ جبکہ کچھ کی نظر میں اب بھی یہ اظہار یکجہتی کا ذریعہ ہے۔ ٹھیک ہے ہونا چاہیے۔ لیکن یہ اظہار یکجہتی عراق شام اور پاکستان سمیت دیگر ممالک میں ہونے والے سانحوں میں بھی کیا جانا چاہیے۔
دنیا کا کون سا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ آپ ایک واقعہ کی تحقیق مکمل ہونے سے پہلے دوسرے ملک میں بمباری کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں؟
اگر اس کی مذمت نہیں کی جا سکتی تو کم از کم شام میں غیرملکیوں کی بمباری اور عراق پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک میں ہونے والے خودکش دھماکوں کے بعد بھی اظہار یکجہتی اور پروفائل متعلقہ ممالک کے جھنڈوں میں بدلنے کی سہولت ہونی چاہیے۔
بصورت دیگر فیس بک کی یہ سہولت ہم پاکستانیوں کے لیے "انھے ہتھ بٹیرا" لگنے والی بات ہی ہے۔ جس سے ہم بناء سوچے سمجھے اپنی تصویروں کو نیلے پیلے رنگ دے کر خوش ہو رہے ہیں۔
No comments:
Post a Comment