حسین لوگوں کے عاشق بہت ہوا کرتے ہیں۔ پر کچھ لوگوں پر تو خود حسن ہی عاشق ہو جاتا ہے۔ سر تا پاؤں سراپا حسن۔
کیا آنکھ کیا گال ۔ کیا ہونٹ کیا رنگ۔ اور کیا نین نقش۔ چہرہ تو ایک طرف ہر انگ اتنا حسین ہوتا ہے کہ بیان سے باہر۔ مزید کچھ لکھوں گا تو بات شاید اخلاق کے دائرے سے باہر چلی جائے۔
اتنا ہے کہ ایسے حسین لوگوں کو دیکھ کر قدرت کی صناعی کی تعریف کرنے کو خودبخود جی چاہتا ہے۔ انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ نا جانے وہ قلم کیسا ہو گا جس سے یہ بدن تراشا گیا۔ وہ مصور کیسا ہو گا جس نے یہ حسین شاہکار تخلیق کیا۔
بقول شاعر۔ ۔ ۔ خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے۔ ایسے حسین لوگوں کی ادائیں بھی نرالی ہوتی ہیں۔ بولنے کا انداز۔ چال ڈھال۔ غرض ہر ادا میں اپنا ایک حسن ہوتا ہے۔
گویا یک نا شد دو شد کے مصداق جسمانی حسن تو اپنی جگہ ادائیں اس سے بھی بڑھ کرہوتی ہیں۔
چلیں تو بڑے بڑے ایمان والوں کے دل ڈول جائیں۔ بولیں تو ہوائیں بھی رک کر سنا کریں۔ مسکرائیں تو اردگرد کا ہر منظر کھکھلا اٹھے۔ خاموش ہوں تو خلا کی تنہائی بھی رشک کرے۔
دیکھنے کی ادا اتنی قاتل کہ دل والے ایک نگاہ سے ہی بسمل تڑپنے لگیں۔ اور روٹھنا ایسا کہ یوں لگے کہ دنیا ہی روٹھ گئی۔
آپ کو تو شاید یہ مبالغہ لگے۔ لیکن جو سینے میں دھڑکتا حساس دل رکھتے ہیں وہی سمجھ سکتے ہیں۔ میں کیا کہہ رہا ہوں
۔
کیا آنکھ کیا گال ۔ کیا ہونٹ کیا رنگ۔ اور کیا نین نقش۔ چہرہ تو ایک طرف ہر انگ اتنا حسین ہوتا ہے کہ بیان سے باہر۔ مزید کچھ لکھوں گا تو بات شاید اخلاق کے دائرے سے باہر چلی جائے۔
اتنا ہے کہ ایسے حسین لوگوں کو دیکھ کر قدرت کی صناعی کی تعریف کرنے کو خودبخود جی چاہتا ہے۔ انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ نا جانے وہ قلم کیسا ہو گا جس سے یہ بدن تراشا گیا۔ وہ مصور کیسا ہو گا جس نے یہ حسین شاہکار تخلیق کیا۔
بقول شاعر۔ ۔ ۔ خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے۔ ایسے حسین لوگوں کی ادائیں بھی نرالی ہوتی ہیں۔ بولنے کا انداز۔ چال ڈھال۔ غرض ہر ادا میں اپنا ایک حسن ہوتا ہے۔
گویا یک نا شد دو شد کے مصداق جسمانی حسن تو اپنی جگہ ادائیں اس سے بھی بڑھ کرہوتی ہیں۔
چلیں تو بڑے بڑے ایمان والوں کے دل ڈول جائیں۔ بولیں تو ہوائیں بھی رک کر سنا کریں۔ مسکرائیں تو اردگرد کا ہر منظر کھکھلا اٹھے۔ خاموش ہوں تو خلا کی تنہائی بھی رشک کرے۔
دیکھنے کی ادا اتنی قاتل کہ دل والے ایک نگاہ سے ہی بسمل تڑپنے لگیں۔ اور روٹھنا ایسا کہ یوں لگے کہ دنیا ہی روٹھ گئی۔
آپ کو تو شاید یہ مبالغہ لگے۔ لیکن جو سینے میں دھڑکتا حساس دل رکھتے ہیں وہی سمجھ سکتے ہیں۔ میں کیا کہہ رہا ہوں
۔
No comments:
Post a Comment