ویسے ہر کسی کی اپنی سوچ ہوتی ہے۔ کچھ دوستوں کے ذہن میں کیٹ ونسلیٹ۔ ایشوریہ رائے اور مدھو بالا کا خیال آیا ہو گا۔ تو کچھ اپنے محبوب کے تصور میں کھو گئے ہوں گے۔ لیکن ایسے حسن والے خال خال ہی ملتے ہیں جن کو دیکھتے ہی خیال آئے کہ۔ ۔ ۔
یہ سنگ مرمر سے تراشا ہوا حسین بدن
اتنا دل کش ہے کہ اپنانے کو جی چاہتا ہے
یہ سب تو وہ ہے جسے ظاہری حسن کہتے ہیں۔ اس کا تعلق جسم سے ہے۔ جو آنکھوں کو نظر آتا ہے۔ خوبصورت نشیلی آنکھیں۔ رسیلے ہونٹ کشادہ پیشانی۔ بھرا ہوا جسم۔ ۔ ۔ ۔
سب ظاہری حسن سے تعلق رکھتے ہیں۔
ایک باطنی حسن بھی ہوتا ہے۔ جس کا تعلق روح سے ہے جو آنکھ کو نظر نہیں آتا صرف دل والوں کی سمجھ میں آتا ہے۔
باطنی حسن کی سب سے بڑی خصوصیت کردار ہے۔ کردار سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص باطنی حسن میں کس حدتک حسین ہے۔
خلوص نیت۔ ایمانداری اعلی کردار اصول پسندی۔ یہ سب وہ خصوصیات ہیں جن کا تعلق باطنی حسن سے ہے۔
ظاہری حسن کی تعریف تو ہر کوئی کرتا ہے۔ باطنی حسن کی تعریف وہی کر سکتے ہیں جو خود باطنی حسن کے مالک ہوتے ہیں۔ کیونکہ باطنی حسن کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
یہ سنگ مرمر سے تراشا ہوا حسین بدن
اتنا دل کش ہے کہ اپنانے کو جی چاہتا ہے
یہ سب تو وہ ہے جسے ظاہری حسن کہتے ہیں۔ اس کا تعلق جسم سے ہے۔ جو آنکھوں کو نظر آتا ہے۔ خوبصورت نشیلی آنکھیں۔ رسیلے ہونٹ کشادہ پیشانی۔ بھرا ہوا جسم۔ ۔ ۔ ۔
سب ظاہری حسن سے تعلق رکھتے ہیں۔
ایک باطنی حسن بھی ہوتا ہے۔ جس کا تعلق روح سے ہے جو آنکھ کو نظر نہیں آتا صرف دل والوں کی سمجھ میں آتا ہے۔
باطنی حسن کی سب سے بڑی خصوصیت کردار ہے۔ کردار سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص باطنی حسن میں کس حدتک حسین ہے۔
خلوص نیت۔ ایمانداری اعلی کردار اصول پسندی۔ یہ سب وہ خصوصیات ہیں جن کا تعلق باطنی حسن سے ہے۔
ظاہری حسن کی تعریف تو ہر کوئی کرتا ہے۔ باطنی حسن کی تعریف وہی کر سکتے ہیں جو خود باطنی حسن کے مالک ہوتے ہیں۔ کیونکہ باطنی حسن کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ ظاہری اور جسمانی خوبصورتی پہ تو بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ شاعروں نے پورے پورے دیوان لکھ ڈالے۔ لیکن باطنی حسن کو الفاظ میں بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ڈائریکٹ دل کی زبان میں بیاں ہو سکتا ہے۔
اگر باطنی حسن کو بیان کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تو شاید مجنوں گریبان چاک کر کے ویرانوں میں نا پھرتا بلکہ دنیا کو بتاتا کہ کالی ہونے کے باوجود وہ لیلی سے بے پناہ پیار کیوں کرتا ہے۔ یہ بات نا ہی سمجھائی جا سکتی ہے اور نا ہی لفظوں سے سمجھ میں آتی ہے۔ اس لیے باطنی حسن پہ میں مزید کچھ بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ صرف اتنا کہوں گا۔ کہ اگر ظاہری حسن پہ پیار آ جائے تو بدل بھی سکتا ہے۔ مگر باطنی حسن سے پیار کرنے والے یا تو ایک ہو جاتے ہیں۔ یا پھر
چاک گریباں دیوانے گلیوں کی خاک چھانتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment