Saturday, January 16, 2010

انڈین میڈیا کی کامیاب حکمت عملی اور ہم

یہ واقعہ میرے بہت ہی قریبی دوست کے ساتھ پیش آیا سوچا آپ کے ساتھ شیئر کرتا چلوں۔ ان کے اپنے الفاظ میں
" پچھلے دنوں جب میں کچھ دن کی چھٹی پر گھر آیا تو بیگم کی پرزور فرمائش پر کیبل لگوا کر دے دی۔
کیونکہ بقول انکے پی ٹی وی پر تو کچھ آتا نہیں تھا دیگر چینلز پر ڈرامے وغیرہ دیکھ لیا کروں گی۔
مجھے اس با ت کا بالکل پتہ نہیں تھا کہ میں نے کیبل کی صورت میں کونسا زہر اپنے گھر والوں کو لے کر دیا ہے۔ یہ عقدہ اس وقت کھلا جب دوبارہ گھر واپس آیا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ گھر کی ہر چیز بدلی بدلی سی نظر آ رہی تھی۔ شام کو جب حسب معمول کھانے کا وقت ہوا تو پتہ چلا ٹی وی پر اس وقت کسی ڈرامے کی قسط چل رہی تھی اور ڈرامے کا انتہائی کلائیمیکس تھا۔اس لیئے کھانا تاخیر سے ملے گا۔
خیر یہاں تک تو بات ٹھیک تھی لیکن اس وقت میری حیرانگی کی انتہا نہیں رہی جب اگلے دن صبح صبح اپنے دونوں بچوںکے کمرے میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرا بیٹا زین اور محسن دو تصویروں کے سامنے ھاتھ جوڑے کھڑے ہیں جب میں نے ان سے پوچھا کہ بیٹا یہ کیا ہے تو زین کہنے لگا ابو یہ دیوی ہم نے ہاتھوں سے بنائی ہے اور ہم اسکی پوجا کر رہیں ہیں۔ کیونکہ ڈرامے والی آنٹی کہتی ہے کہ روز صبح ماتا کے درشن کرنے سے ٹیچر مارتی نہیں اور دن اچھا گزرتا ہے۔
یہ سن کر میرے پاءوں میں تو جان ہی نہ رہی اور آنکھوں میں آنسو آ گیے، کہ یا خدایا میں اپنے بچوں کی کیسی پرورش کر رہا ہوں۔ جب بیگم سے باز پرس کی تو وہ کوئی جواب نہ دے سکیں۔
میں نے اسی وقت کیبل والے کو فون کر کے کیبل کو کٹوا دیا۔



دوستو بات یہاں پر ختم نہیں ہو جاتی سوال یہ ہے کہ انڈین چینلز کی یہ ثقافتی یلغار ہمیں کہاں لے جا رہی ہے۔
آپ جس انڈین ڈرامہ چینل کو دیکھ لیں ہر ڈرامے میں ہندوانہ رسوم رواج کی پوری عملی تفصیر پیش کی جاتی ہے۔ دیوی دیوتاوں کی پوجا پاٹھ سے لے کر روز مرہ زندگی میں موجود ہندوانہ عقیدوں اور تہواروں تک۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ ڈرامے نہیں بلکہ ہندو مزہب کی ٹریننگ کلاسیں ہیں جس مین لوگوں کو اس دلنشیں انداز سے پوجا پاٹھ اور ہندو رسوم رواج دکھائے جاتے ہیں کہ خودبخود انجان بچے یا عورتوں کے دماغ میں بیٹھ جائیں۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اسکا نتیجہ ہمارے حق میں کتنا بھیانک نکل سکتا ہےجب آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال کریں گی کہ آپ نے ہمیں کیا سکھایا دین کے بارہ میں ۔ جب یہی بچے بڑے ہو کر کہیں گے کہ اگر آگ کے سات پھیرے نہ دلائے گئے تو ہم شادی نہیں کر سکتے۔
کیا جواب دیں گے ہم ایسی نسل کو؟
خدارہ سوچیے اور اپنی روش کو بدل دیں۔ اگر ہم اپنے بچوں کو اسلامی تعلیم نہیں دلا سکتے تو کم از کم ہندوانہ رسم رواج کی ترغیب تو نہ دیں۔
میرے گزارش ایسے دوستوں سے بھی ہے جنھوں نے گھر میں کیبل لگوا رکھی ہے یا لگوانے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ کم از کم ایک دفعہ دیکھ ضرور لیں کہ آپ اپنے بچوں کو کیا لگا کر دے رہے ہیں ۔
اور اگر کیبل لگوانا آپ کی مجبوری بن چکی ہے تو آپریٹر سے کہ کے صرف پاکستانی چینلز پر اصرار کریں۔
میرا کام تھا معاشرے میں پھیلے اس ناسور کی جانب آپکی توجہ دلانا۔ فیصلے کا اختیار آپ کے اپنے پاس ہے۔

نہ سمجھو گے تو مٹ جاو گے مسلمانو
تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں



ایک پاکستانی

ندیم کھوہارا

Thursday, January 14, 2010

ڈاکٹر عبدالقدیر ،احمد فراز اور ایس ایم ایس

ڈاکٹر عبدالقدیر بلاشبہ پاکستان کے قومی ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں۔پاکستان کے اس مایہ ناز سپوت نے اپنی انتھک محنت اور ہم عصر سائنسدانوں کے ساتھ مل کر خدا کی خاص رحمت سے وطن عزیز پاکستان کو ایٹم بم کا ایک ایسا تحفہ دیا جس پر پاکستان کے دشمن آج بھی حیران و پریشان ہیں کہ اپنی طاقت کے زور پر انہوں نے ملک عزیز پر قبضہ کرنے کے جو خواب دیکھے تھے وہ دھرے کے دھرے رہ گئے۔
بلاشبہ یہ رحمت خداوندی اور ہمارے اس عظیم ہیرو کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج دشمن ہمیں میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ کیونکہ ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں۔
لیکن ہمارے اس عظیم ہیرو کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ کسی درد مند پاکستانی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔
اپنے دوستوں کے ساتھ جب بھی اس موضوع پر بات ہوئی سب پاکستانی حکومت کی اس ستم ظریفی پر اسکو اپنی مفید گالیوں اور لعن طعن سے نوازتے رہتے ہیں۔
میں اس بات پر کوئی بحث نہیں کروں گا کہ ہمارے اس قومی ہیرو کے ساتھ ایسا سلوک کیونکر کیا گیا اور کس کے کہنے پر کیا گیا ۔
البتہ میں آپ لوگوں کی توجہ ہماری اپنی بے حسی کی جانب دلانا چاہوں گا۔کہ حکومت تو جو کر رہی ہے سو کر رہی ہے ہم بہ حیثیت قوم اپنے ہیروز کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔
میرا اشارہ اردو شاعری میں ایک مقبول نام احمد فراز کی جانب ہے۔
آپ میں سے اکثر دوستوں کو شاید احمد فراز کے قومی ہیرو کہنے پر اعتراز ہو لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان اور اردو زبان کے اس نامور شاعر کو پاکستان کے نو اعلی ترین ایوارڈز کے ساتھ ساتھ چھ بین الاقوامی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا جو اسکی ناموری اور شہرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنے اس ہیرو کے ساتھ کیسا سلوک برتا۔شعروشاعری کے اس جگمگاتے چراغ کو موبائل ایس ایم ایس میں انتہائی گھٹیا اور بے ہودہ قسم کے شعروں کے ساتھ یوں نتھی کیا جاتا ہےجیسے فراز کوئی شاعر نہیں بلکہ بے ہودہ شعر کہنے والا انسان ہے۔
کیا ہم اپنے ہیرو کے ساتھ صحیح سلوک کر رہے ہیں۔ کیا یہی طریقہ ہے اسکو خراج تحسین دینے کا۔
اگر ہم ایک ہیرو کے ساتھ ایسا سلوک کر رہے ہیں تو ہمیں کیا حق پہنچتا ہے کہ ہم دوسروں کی اپنے قومی ہیروز کے ساتھ ناانصافی پر احتجاج کریں۔
کسی دوسرے پر نقطہ چینی کرنے کی بجائے پہلے ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہو گا۔
آئیے یہ عہد کریں کہ ہم آج سے ایسے ایس ایم ایس کا نہ صرف خودبائیکاٹ کریں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں۔
یاد رکھیے پہلے ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہو گا پھر ہی ہم نظام کو بدلنے کی بات کر سکتے ہیں۔
ایک آخری بات مجھے کوئی فراز کا دیوانہ سمجھ کر اس بات کو نظر انداز مت کیجیے گاا
ایک بار غور ضرور کریں

شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میرے بات




آپکا اپنا
ندیم کھوہارا

ایک پاکستانی

Tuesday, January 12, 2010

ہم پاکستانی ہیں

آج کل جس کو دیکھو برےحالات کا رونا رو رہا ہے۔ کوئی اسکا زمہ دار آمریت کو ٹھراتا ہے تو کوئی سارا ملبہ سیاستدانوں پر ڈال دیتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا من حیث القوم ہماری بھی کوئی زمہ داری ہے یا صرف ارباب اقتدار اور اختیار ہی سارے فساد کی جڑ ہیں۔ اور اگر ہماری کوئی زمہ داری بنتی ہے تو کیا ہم اس کو پوری طرح نبھا رہے ہیں؟

اس بلاگ کو شروع کرنے کا مقصد ہمارے معاشرے مین پائی جانے والی عام برایئوں کی نشاندہی کرنا ہےجن کو آپ اور ہم مل کر نہ صرف دور کر سکتے ہیں بلکہ ایک بہتر معاشرے کی تشکیل دے سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ ہمارا فرض ہے۔

کوشش کروں گا کہ روزانہ کسی ایسی معاشرتی برائی یا ناانصافی کو تشت از بام کروں جو ہمیں اس بات کا احساس دلائے کہ ہم ہی ہیں جو مل کر معاشرے کی تمام برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ سکتے ہیں۔ کیونکہ ہم ہی پاکستانی ہیں اور یہ ملک ہمارا اپنا ہے اور ہم ہی اس کوصحیح معنوں میں قائد کا پاکستان بنا سکتے ہِیں۔

ہر سچے اور اچھے پاکستانی سے گزارز ہے کہ جب بھی موقع ملے اس بلاگ کو ضرور وزٹ کریںاور اپنی رائے سے نوازئیےگا۔
ایک پاکستانی

ندیم کھوہارا