Friday, December 16, 2011

16 DECEMBER سقوط ڈھاکہ

آج سولہ دسمبر ہے۔ چالیس سال پہلے اپنوں کی نااہلیوں غیروں کی چالاکیوں اور دشمنوں کی سازشوں سے ہمیں ایک عظیم سانحے سے گزرنا پڑا جسے بلاشبہ واقعہ کربلا اور سقوط بغداد کے بعد مسلم امہ کا تیسرا بڑا سانحہ مانا جاتا ہے۔ جس میں دنیائے اسلام کی عظیم سلطنت پاکستان کو سازش کر کے دو ٹکڑے کر دیا گیا۔ اس المناک واقعے کی یاد میں چند اشعار۔۔۔۔۔



سقوط ڈھاکہ

زندگی سات رنگوں سے مل کر بنی ہے
مگر آج تو زندگی کا فقط ایک ہی رنگ ہے
خون کا رنگ
میرے ۔۔۔۔۔تمہارے۔۔۔۔۔سبھی کے دمکتے ہوئے خون کا رنگ
جس طرح سورج کا عکس آئینے میں
مرے چار جانب وہی رنگ ہے
میرے اندر وہی رنگ ہے
میرے فن۔۔۔۔۔۔ میرے فکر میں۔۔۔۔۔۔۔۔میری یادووں میں
۔۔۔۔۔۔۔میرے خیالوں میں
میرے عقیدوں میں

بس ایک ہی رنگ ہے
اور یہ خون کا رنگ ہے
خون تاریخ کا
خون تہذیب کا
خون اسلاف کے جذبہ حریت کا
مری آن کا
میری غیرت کا
میری حمیت کا
میری محبت کا
ان حسرتوں، امنگوں کا
جو پیاس سے مر گئیں
ان امیدوں کا
جو یاس سے مر گئیں

خون ماوں کا۔۔۔۔۔۔۔ بہنوں کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔بچوں کا۔۔۔۔۔۔۔۔ شعروں کا
نغموں کا
۔۔۔۔۔۔گیتوں کا

اسلوب گفتار کا
حسن کردار کا
میرے پندار کا
یم بہ یم خون
میرا۔۔۔۔۔تمہارا،،،،،،سبھی کا
مگر خون کا فقط ایک ہی رنگ ہے
چاہے ڈھاکے کا ہو
چاہے لاہور کا
آج کے دن کا
یا آنے والے دنوں کا
ہزاروں کا ہو یا کروڑوں کا ہو
رنگ تو خون کا ایک ہے
اور یہی رنگ ہے آج کی زندگی کا
میرے شہر۔۔۔۔۔ میرے گاوں بھی۔۔۔۔۔۔۔جنگل بھی۔۔۔۔۔میدان بھی
۔۔۔۔۔۔میرے کوہسار۔۔۔۔میرے سمندر
سبھی خون ہی خون ہے
مرے کڑیل جوان خون ہی خون ہیں
میرا گھر خون ہی خون ہے
میرا دل خون ہی خون ہے



ندیم رزاق کھوہارا

Wednesday, December 14, 2011

صفائی اور حکومت کی ذمہ داری

آج صبح میں اپنی بائک پہ دفتر جا رہا تھا کہ یک لخت خون کے چھینٹےمیرے جسم پہ آکے پڑے ۔ مِں نے بھت حیران ہو کر بائک روکی اور کپڑوں کی جانب دیکھا تو جابجا سرخ چھینٹے پڑنے سے خراب ہو چکے تھے۔ مجھے سخت حیرانگی ہوئی کہ یہ خون کہاں سے آیا۔ اتنے میں سامنے نظر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ویگن میں سوار ایک صاحب پان چباتے جا رہےہیں اور وقتاِ فوقتا ویگن کے شیشے سے سر باہر نکال کر بیرونی دنیا کو پان کی ہولناکی اور رنگولی کا مشاہدہ بھی کروا رہے ہیں۔ وہ صاحب کچھ وقفہ کے بعد سر باہر نکالتے اور پان کی باریک پچکاری بغیر ادھر ادھر دیکھے اپنی دانست میں زمین پہ پھینک رہےتھے جبکہ ویگن کے تیز رفتار ہونے کی وجہ سے انکے اگال کے چھینٹے ہوا میں بکھر سڑک پر آنے والے مجھ جیسے کئی لوگوں کے کپڑوں پر پڑ رہے تھے۔
اپنے کپڑوں کا یہ حشر دیکھ کر غصہ تو بہت آیا لیکن اس سے زیادہ غصہ اس بات پر آرہا تھا کہ بحیثیت قوم ہم کتنے بےحس ہو چکے ہیں۔کہ اردگرد کے لوگوں کا کوئی خیال ہی نہیں رہا۔
یقینا یہ صاحب اپنے دوستوں کی محفل میں یہ بھی  کہتے ہوں گے کہ جناب ہماری حکومت بےکار ہے جدھر دیکھو گندگی کے ڈھیر ہیں اور صفائی کا کوئی انتظام نہیں۔
میںبہت سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو دوستوں کی محافل میں اکثر یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ جناب ہماری حکومت کا کوئی حال نہیں جو حکومت صفائی کا نظام بہتر نہیں کر سکتی اسکو چلے جانا چاہیے۔ جبکہ عام روزمرہ زندگی میں وہی صاحب صفائی کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئےفالتو چیزوں کو کوڑے کے ڈرم کی بجائے سڑکوں اور پارکوں میں پھینکتے نظر آتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا کوئی زمہ نہیں بنتا۔ یا ہمارا کام صرف اتنا ہی ہے کہ جا بجا گندگی پھیلاتے رہیں اور حکومت سے یہ توقع رکھیں کہ وہ اسکو بروقت صاف کرتی رہے؟
سوچنے کی التجا کے ساتھ


ندیم رزاق کھوہارا